"آئینہ تاریخ پاکستان کا فیصلہ عوام پاکستان کا"
تاریخ پاکستان اور قائدین پاکستان دیکھ ریا اتھا ۔
سوچا دیکھوں تاریخ کی کہتی ہے؟ کیوں کہتی ہے؟صحیح یا غلط اسکا فیصلہ عوام پاکستان کرے گی؟
فیصلہ کر لیا تھا مکمل غیر جانبدار رہوں گا اسلئے اپنی کسی بھی رائے کا اظہار نہیں کر رہا !
قائدین جو اس ملک کے سربراہ رہے ان کو دو حصوں میں تقسیم کر رہا ہوں ۔ وزیراعظم اور صدور ۔
پہلے حصے کا آغاز وزیر اعطم سے کرتے ہیں ۔
1 ۔ خان لیاقت علی خان قائد اعظم کے دست راست تھے اور اردو بولتے تھے ہونی مہاجر وزیر اعظم تھے ۔
نواب فیملی سے تعلق رکھتے تھے ۔1947 سے 1951 تک وزیر اعظم رہے اور 16 اکتوبر 1951 کو
راولپنڈی کے جلسہ عام میں شہید کر دیے گئے۔ سوا چار سال دور اقتدار رہا ۔ قاتل کو بھی مروا دیا گیا
قتل کے مہرکات کا آج تک پتہ نہ چل سکا ۔
2 ۔ دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین تھے ۔پہلے بنگالی وزیراعظم تھے ۔ 1951 سے 1953 ڈیرھ سال
اپنے عہدہ پر رہے اور ملک میں امن و امان قا ئم نہ رکھنے کے الزام میں ملک غلام محمد جو پنجابی تھے
اور پاکستان کے گورنر جنرل بھی تھے، جبکہ خواجہ ناظم الدین بھی 3 سال تک گورنر جنرل رہے تھے ۔
ان کو برطرف کر دیا ان کا دورانہ بھی ڈیڑھ سال رہا اور اسطرح دوسے وزیر اعظم کو بھی فارغ کر دیا گیا ۔
3 ۔ تیسرے وزیراعظم محمد علی بوگرہ تھے امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے امریکی مفادات کے
لیےکام کرتے تھے یعنی پہلے امپورٹڈ وزیراعظم تھے اور اسکے بعد وزیر خارجی کی حیثیت میں انتقال ہوا
بنگالی تھے دورانیہ اقتدار سوا دو سال رہا 1953 سے 1955 تک اس عہدہ پر رہے ۔
4 ۔ چوتھے ًچوہدری محمد علی،پہلے پنجابی وزیراعظم اور گورنرجنرل غلام اعظم جو خود بھی پنجابی تھے
پنجابی تھے اور صرف 13 ماہ کے بعد گھر بھیج دیے گئے ۔ 1956 -1957 تک اقتدار میں رہے۔
5 ۔ حسین شہید سہروردی عوامی لیگ سے تعلق تھا،بنگالی تھے اور ان کو بنگالی صدر اسکندر مرزا نے
تیرہ ماہ بعد گھر بھیج دیا ۔ ان کا دورانیہ 1956- 1957 رہا ۔ یہ پانچویں ورزیراعظم تھے ۔
6 ۔ اسمعیل ابراہیم صرف دو ماہ بعد رخصت کر دیے گئے ۔ یہ وہ فرد تھے جنھوں نے پاکستان کے پہلے
صدارتی آئین کا مسودہ پیش کیا تھا اور ماہر قانون بھی تھی اور پنجابی تھے ۔ اور1957 میں ہی چلے گئے ۔
7 ۔ فیروز خان نون پنگابی تھے 1958 - 1957 ۔ دس ماہ وزیراعظم رہے ، بنگالی صدر اسکندر مرزا اور
صدر پاکستان جو پٹھان تھے ان کا شکار ہوئے اور اس کے بعد ملک میں جمہوریت پر آمر جنرلوں کے آنے
کا راستہ ہموار ہو گیا انکی مادری زبان پنجابی تھی اسطرح یہ آخری پاکستان کے جمہوری وزیراعظم تھے ۔
انکا دوران اقتدار 1957 -1958 رہا اور اسطرح پاکستان کے ساتویں وزیراعظم بھی گھر چلے گئے ۔
8 ۔ نورالامین سب سے کم اقتدار میں رہنے والے وزیراعظم رہے یعنی صرف 13 دن یہ بنگالی وزیراعظم رہا
اور ایک پٹھان فوجی جنرل نے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا اور وطن عزیز کے بہترین مفاد میں فارغ کر
دیا 1958 سے 1971 کے وریراعظم کا ذکر اسلئے نہیں کہ فوجی آمر اس دوران اقتدار پر قابض رہے اور
جاتے جاتے اقتدار اک اور آمر جنرل یحیی خان کے سپرد کر گئے اور پاکستان ٹوٹ گیا ۔
نورالامین کو یحیی نے 7 دسمبر 1971 کو قومی حکومت کی تشکیل کے بعد سلامتی کونسل میں
پاکستان جمہوری پارٹی کے سابق مسلم لیگی رہنماء کو بطور وزیر اعظم بھیجا یہ پاکستان کے واحد نائب
صدر بھی رہے اور20 دسمبر 1971 سے لیکر 14اگست 1973 تک یہ عہدہ پاکستان میں رہا ۔
9 ۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ملک دو لخت کروانے کے بعد اس منصب پر فائز
ہوئے ساتھ ہی یہ واحد وزیراعظم تھے جو پاکستان کی تاریخ کے واحد پہلے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور
ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ جنرل یحیی نے ذوالفقار علی بھٹو کو سامتی کونسل میں بطور وزیر خارجہ
اور قومی حکومت کی تشکیل کے بعد مغربی پاکستان کے اکثریتی رہنماء کو نائب وزیراعظم بنا کر بھیجا تھا ۔
اس طرحیوب خان کو ڈیڈی کہنے والے وزیر خارجہ پاکستان کے وزیراعظم بن گئے صرف پہلی مدت پوری کر
سکےاور دوسری مدت کے 4 ماہ بعد ہی ان کو ان کے چہیتے جنرل محمد ضیاء الحق نے اقتدار سے
الگ کر دیا ۔
بھٹو پاکستان کے پہلے سندھی وزیر اعظم تھے اور پنجابی جنرل ضیاء الحق نے سپریم کورٹ کے ذریعے
پھانسی کے پھندا پر لٹکا دیا ان کا دور اقتدار 1973 - 1977 تک رہا
۔
10 ۔ دوسرے سندھی وزیراعظم محمد خان جونیجو تھے جو پنجابی صدر اور آمر ضیائ الحق کے نامزد کیا
اور صرف 3 سال بعد بدعنوانی کا الزام لگا کر گھر بھیج دیا ۔ دور اقتدار 1985 سے 1988 تک رہا ۔
11 ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو پہلی خاتون وزیراعظم تھیں کہلی مدت صرف پونے 2 سال اور دوسری ٹرم میں
تین سال بعد پٹھان صدر غلام اسحاق خان اور دوسری دفعہ اپنی ہے پارٹی کے سرائیکی صدر فاروق لغاری
کی جانب سے بدعنوانی کے الزامات کے بعد گھر چلی گئی اور پنڈی میں لیقت باغ میں مار دیا گیا ۔
بے نظیر بھٹو کے دور اقتدار1988 سے 1990 اور دوسرا 1993 سے 1996 رہا ۔
12 ۔ نواز شریف ملک کے تیسرے منتخب وزیر اعظم تھے ڈھائی سال بعد پٹھان صدر اسحاق خان نے اور
دوسرے دور میں دوتہائی اکثریت کے باوجود اڑھائی سال بعد افواج پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف
جنرل مشرف کے جہاز کے ہائی جیک کرنے کی بنیاد پربرطرف ہوئے۔عمر قید کی سزا پھر جلاوطنی اپنی
مرضی سےاور معاہدے کے تحت سعودی عرب چلے گئے نسل پنجابی / کشمیری ہیں ۔ 1990 سے 1993
دوسرا 1996 سے 1999 رہا ۔
13 ۔ صدر مشرف کے دور میں ڈیڑھ سال تک وزیراعظم رہے یہ شو پیس کی حیثیت رکھتے تھے بلوچی تھے ۔
دوراقتدار 2202 سے 2004 رہا اور پھر گھر بھیج دیے گئے ۔
14 ۔ شوکت عزیز ملک پر مسلط کیے گئے ورڈ بینک میں کام کرتے تھےاور عہدہ چھوڑنے کے بعد
گارڈ آفآنر لینے والے واحد وزیراعظم تھے ۔اردو بولے والے تھے ا2014 سے 2007 تک عہدہ پر رہے ۔
15۔ یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی سے تعلق پہلے سرائیکی وزیراعظم تھے، سب سے طویل عرصے
وزیراعظم رہے اور ان کے ہی ہاتھوں سے بحال ہونے والے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے فیصلہ
کے تحت گھر بھیج دیے گئے ۔
ان کے علاوہ غلام مصطفے جتوئی ۔ سندھی۔ بلخ خان مزاری بلوچ ۔ امپورٹڈ معین الدین قریشی ۔ پنجابی ۔
ملک معراج خالد ۔ پنجابی ۔ شجاعت ھسین ۔ پنجابی ۔محمد میاں سومرو ۔ سندھی ان افراد نے بھی بطور
نگراں وزیر اعظم پاکستان کام کیا اور عمر بھر کی رعایتیں اب تک حاصل کر رہے ہیں ۔
تاریخ یہ کہتی ہے ۔آنینہ دیکھا دیا ہے ، تاریخ کیا کہتی ہے آپ کے سامنے ہے ۔ اب فیصلہ عوام کا ہوگا ۔
Popular posts from this blog
جب ایوب خان نے فاطمہ جناح کو امریکہ اور انڈیا کی ایجنٹ قرار دیا؟
ترتیب و ترجمہ : کنور اسلم شہزاد 12اپریل12 بروز بدھ 2017 جب ایوب خان نے فاطمہ جناح کو امریکہ اور انڈیا کی ایجنٹ قرار دیا؟ یہ کہانی 1964 کے کرسمس ڈے پر ٹائم میگزین میں چھپی تھی۔ اس کہانی سے امریکہ انڈیا اتحادکی تاریخ اور پختگی کا پتا چلتا ہے۔ ایوب خان نے فاطمہ جناح کو بھارتی اور امریکی ایجنٹ قرار دے دیا تھا۔ سکیورٹی اسٹیبلیشمنٹ کا یہ آزمودہ حربہ ہے۔ڈکٹیٹر نے فاطمہ جناح کے بارے میں اس موقع پر کہا: لوگ انہیں مادر ملت کہتے ہیں اس لیے انہیں مادر ملت ہی بن کے دکھانا چاہیے۔ ایوب خان کو پریشان کرنے والی بات یہ تھی کہ فاطمہ جناح پینٹ میں بہت دلکش دکھائی دیتی تھیں۔ فاطمہ جناح جتنا زیادہ صدر ایوب پر تنقید کرتیں عوام انتا ہی انہیں سپورٹ کرتے۔آخری ہفتے تک جب صدارتی الیکشن صرف چند دن کی دوری پر تھے ، ان کی اپوزیشن اس قد ر عروج پر پہنچ گئی کہ انہیں اس قدر مخالفت کا سامنا پچھلے چھ سال ملا کر بھی نہیں کرنا پڑا۔فوجی چھڑی کے مقابلہ میں ۷۱ سالہ سفید بالوں والی فاطمہ جناح پانچ مختلف سیاسی جماعتوں کی متفقہ امیدوار تھیں کیوں کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن تھیں جن کی بدولت پاکست...
غیرحقیقت پسند اینکر مافیہ صحافی ہر دور میں بکا ہے اب ان میں سے خود قسمتی وہ اینکر بھی ہیں۔عمر کے اس حصہ مین ہیں کہ بررگ ہیں۔ بزرگ بچوں کو سمجھاتےہیں محترم مزاق اوڑاتے ہیں۔ یہ وہی صحافی ہیں جو جناح پور کے نقشہ کی سازژ میں شریک تھے،کل جب بسمہ کی ہلاکت پر میں نے سوال کیا۔ہم متوسط طبقہ سے قیادت کیوں نہیں لاتے تو موصوف فرماتےہیں ۔آپ نے دیکھا نہیں ًMQM والوں کو میں نے کہا Deliverکیا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں بس یہ تقریروں میں ہوتا ہے۔جی ہاں میں ندیم نصرت صاحب بولتا پاکستان کے اینکر کی بات کر رہا ہوں۔ کراچی سے ہی جب اک صاحب نے سوال کیا 27 سال سے کراچی میں یک ہی جماعت MQM متحدہ قومی موومنٹ قابض ہے تو موصوف فرماتے ہیں PTI متبادل ہے۔ موصوف لودھراں میں PTI کی کامیابی کوPLMN کے کئے چیلینج سمجھتے ہیں۔اگر چاہیں تو کل کا بولتا پاکستان دیکھ لیں۔میری کال ہے پروگرام میں۔محترم ندیم نصرت اس عمر میں تو سچ بولیں۔
Comments
Post a Comment